مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر بھارتی فوج کی درندگی کا پردہ فاش ہوگیا

مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر بھارتی فوج کی درندگی کا پردہ فاش ہوگیا

مقبوضہ کشمیر کی پولیس نے بھارتی فوج کی درندگی کا پردہ فاش کرتے ہوئے 3 مقامی مزدوروں کو عسکریت پسند قرار دے کر ہلاک کرنے والے بھارتی فوج کے ایک کپتان اور اس کے دو سپاہیوں کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کردی ہے۔

ترکی کے خبررساں ادارے انادولو کے مطابق مقامی عدالت میں دائر چارج شیٹ میں پولیس نے کہا کہ کپتان نے 8 جولائی کو جنوبی کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ساتھ تصادم ظاہر کرکے فائرنگ کی تھی۔

جعلی انکاؤنٹر کی تحقیقات کرنے والے جموں وکشمیر پولیس کی خصوصی ٹیم نے آرمی افسر کے خلاف 300 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی۔

مقامی میڈیا نے تحقیقات کمیٹی کے سربراہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس وجاہت حسینیان کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے پرنسپل اور سیشن کورٹ شوپیاں کے علاقے میں 3 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔

انہوں نے ملزم کی شناخت 62 راشٹریہ رائفلز کے کیپٹن بھوپندر اور جنوبی کشمیر کے شوپیاں اور پلوامہ اضلاع کے رہائشی تابیش احمد اور بلال احمد کے نام سے کی۔

اس سے قبل یعنی جمعرات کو فوج نے جعلی مقابلے کے بارے میں کہا تھا کہ شواہد کی سمری کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے جس میں جموں خطے کے ضلع راجوری کے 3 مزدور ہلاک ہوگئے تھے، بھارتی فوج نے مزید کہا تھا کہ متعلقہ حکام قانونی مشیروں کے ساتھ کیس کی مزید کارروائی کے لیے جانچ کررہے ہیں۔

اس سے قبل اہل خانہ نے جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت 21 سالہ امتیاز احمد، 25 سالہ ابرار احمد اور 18 سالہ ابرار کھٹانہ کے نام سے کی تھی، تاہم ڈی این اے ٹیسٹ اور دیگر قانونی مراحل پورے کرنے کے 70 دن بعد مقتول نوجوانوں کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کردی گئیں۔

خیال رہے کہ 11 اگست کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں سے لاپتا ہونے والے 3 مزدوروں کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ 18جولائی کو بھارتی فوج نے جن 3 نامعلوم عسکریت پسندوں کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا کہ وہ درحقیقت ان کے بے گناہ رشتے دار تھے، بعدازاں سیاسی تجزیہ کار اور جموں سے آئے ہوئے صحافی ظفر چوہدری نے ٹوئٹ کیا تھا کہ انہوں نے اس کنبے سے بات کی ہے جنہوں نے بلاشک و شبہ تینوں نوجوانوں کی شناخت کی ہے۔

18 جولائی کو جموں و کشمیر پولیس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ تصادم راشٹریہ رائفلز کی 62 بٹالین کی نشاندہی پر انجام دیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ تلاشی کے دوران دہشت گردوں نے فوجی جوانوں پر فائرنگ کردی اور انکاؤنٹر شروع ہوگیا، بعدازاں پولیس اور سی آر پی ایف بھی اس میں شامل ہوگئے، مقابلے کے دوران 3 نامعلوم دہشت گرد ہلاک ہوگئے، ہلاک ہونے والے تینوں دہشت گردوں کی لاشیں انکاؤنٹر کے مقام سے بازیافت کی گئیں، ترجمان نے بتایا تھا کہ ہلاک دہشت گردوں کی شناخت اور وابستگی کا پتا لگایا جا رہا ہے۔

دریں اثنا بھارت کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسی) نے تینوں مزدوروں کے گمشدہ ہونے کے واقعے کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے لیے عدالتی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

پارٹی نے کہا تھا کہ ایسی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ لاپتا مزدور 18 جولائی کو شوپیاں میں جعلی مقابلے میں قتل کردیئے گئے، یہ چونکا دینے والی ہے اور اس کی مخصوص وقت کے اندر ہائی کورٹ کے کسی جج کے ذریعے تفتیش کرنی چاہیے۔

پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی کے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ٹوئٹ میں ان کی بیٹی التجا مفتی نے کہا تھا کہ شوپیاں میں ہونے والے انکاؤنٹرکی اطلاعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح افواج استثنیٰ کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں