سری لنکا کے نئے وزیراعظم نے صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا

سری لنکا

کولمبو {پاک صحافت} سری لنکا کو ان دنوں بدترین معاشی اور سیاسی بحران کا سامنا ہے۔

سری لنکا میں شدید احتجاج کے درمیان جمعرات کی شام رانیل وکرما سنگھے کے نئے وزیر اعظم بن گئے۔ وزیراعظم بننے کے بعد پہلی بار میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صدر کے خلاف بیان دیا۔

وکرم سنگھے نے کہا کہ "گوٹا دو گاما” تحریک جاری رہنی چاہیے، میں اور پولیس اس تحریک کو روکنے کے لیے مداخلت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئی کابینہ کی تشکیل پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

سری لنکا میں 13 اور 14 مئی کو پانچ گھنٹے بجلی کی کٹوتی کی منظوری دی گئی ہے، جس کے باعث عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، لوگ صدارتی رہائش گاہ کے باہر خیمے لگا کر احتجاج کر رہے ہیں۔

سری لنکا میں تشدد پر اکسانے والے 59 سوشل میڈیا گروپس کی نشاندہی کی گئی۔ سری لنکا کی پولیس کو تشدد کے مرتکب افراد پر گولی چلانے کی ہدایت کی گئی۔

سری لنکا کے ایم پی امرکرتھی اتھکورلا تین روز قبل ایک پرتشدد تصادم میں مارے گئے تھے، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ انہوں نے خودکشی کر لی ہے، حالانکہ اب پولیس نے واضح کر دیا ہے کہ امرکرتھی کا قتل کیا گیا تھا، انہیں ہجوم نے مارا پیٹا تھا۔

مرکزی بینک کے گورنر نند لال ویراسنگھے کا کہنا ہے کہ اگر عام لوگوں پر ٹیکس نہیں بڑھایا گیا تو سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے نئے نوٹ چھاپنا پڑیں گے۔

اس دوران سابق وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے کے بیٹے اور سابق کابینہ وزیر نمل راجا پاکسے نے مظاہرین سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں طرف سے اشتعال انگیزی کی کارروائی ہوئی ہے۔ اس وقت ملک میں امن و امان کا نام و نشان نہیں ہے۔

دوسری جانب ایک اہم سیاسی پیش رفت کے حصے کے طور پر ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے اور ان کے آٹھ قریبی ساتھیوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سری لنکا پیٹرولیم پرائیویٹ ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن نے تیل اور گیس کی تقسیم کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ سری لنکا کی اس باڈی کا کہنا ہے کہ جب سیکیورٹی ٹھیک نہیں ہوگی تو تیل کی تقسیم نہیں ہوگی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں