حکمران کشمیریوں کے ساتھ مخلص ہیں توبھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کریں: سراج الحق

حکمران کشمیریوں کے ساتھ مخلص ہیں توبھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کریں

لاہور (پاک صحافت) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کر کے خطہ کو نئی دہلی کے حوالے کردیا گیا۔ بھارت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات فوری منقطع کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو حکومتوں اور اداروں کے تسلط سے آزاد کیا جائے ۔براڈ شیٹ پر حکومتی کمیٹی نامنظور ، سپریم کورٹ ایکشن لے ۔ 31 جنوری کو سرگودہا جلسے میں اگلا لائحہ عمل دیں گے ۔ تین فروری کو اسلام آباد میں قومی کشمیر کانفرنس منعقد ہو گی۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن کے سامنے جلسہ کے دوران ادارہ کو مضبوط بنانے کے لیے کوئی بات نہیں کی نہ ہی انکے جلسوں میں اسلامی نظام کے لیے کوئی بات کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: عمران نے بھارت اور اسرائیل سے مالی اعانت وصول کی: مریم

جماعت اسلامی کی جدوجہد کا پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی لڑائی سے کوئی لینا دینا نہیں ۔ہمارا ایجنڈا حقیقی احتساب کا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار اور مضبوط ادارہ ہو۔ گلگت بلتستان کے الیکشن کے دوران پی ٹی آئی نے وہی طریقہ کار اپنایا اور اسی طرح سرکاری وسائل کا استعمال کیا جس طرح ماضی میں کیا جاتا رہا ۔ اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ جب تک الیکشن کمیشن مضبوط نہیں ہوگا اور الیکشن ریفارمز نہیں ہوں گی ، ملک میں جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی ۔

انہوں نے کہا کہ علاقہ کی ترقی کے لیے ایک ہزار ارب کا اعلان کیا گیا جو صرف کاغذوں تک محدود رہا ۔ فاٹا میں لوگ اٹھائے جارہے ہیں ۔ کاروبار بند ،نوجوان بے روزگار اور غربت نے ڈیرے جما رکھے ہیں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے کشمیریوں کے ساتھ غداری کی ۔ انٹر نیشنل اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کر کے کشمیر کو نئی دہلی کے حوالے کردیا گیا ۔وزیراعظم لفظی جادوگری سے کام لے رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کو صوبہ بنا کر کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں لاک ڈائون سترہ ماہ سے جاری ہے مگر ہماری حکومت اور عالمی طاقتیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی مسئلہ کشمیر پر خاموشی اور وزیراعظم کے یوٹرن پر پاکستانی ہی نہیں ، پوری دنیا بھی حیران ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ اس سلسلے میں ہم اسلام آباد میں تین فروری کو کشمیر کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیاجائے گا ۔ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پورے ملک میں جلسے اور ریلیاں نکالی جائیں گی ۔ کشمیر کے مسئلہ کو بھر پور طریقے سے اجاگر کرنے کے لیے انہوںنے انتظامی ، سیاسی اور میڈیا کمیٹیوں کی تشکیل کا اعلان کیا ۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم ، نائب امیر لیاقت بلوچ اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بالترتیب کمیٹیوں کے سربراہ ہوں گے ۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں