اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف شدید مظاہرے، ایک شخص ہلاک ہوگیا

اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف شدید مظاہرے، ایک شخص ہلاک ہوگیا

اسرائیل میں نیتن یاہو کی پالیسوں کے خلاف شدید مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک درجنوں افراد زخمی اور گرفتار کیئے جاچکے ہیں اور اب تازہ ترین مظاہرے کے دوران ایک شخص کو ہلاک کر دیا گیا ۔

صیہونی حکومت سے وابستہ ذرا‏ئع نے نیتن یاہو کے خلاف ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ نیتن یاہو کے حامیوں نے مظاہرین پر گاڑی چڑھا دی جس کے سبب ایک 82 سالہ شخص اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شخص کا بیٹا مقامی فیس بک کمپنی کا ڈائریکٹر ہے۔

واضح رہے کہ نتن یاہو کی پالیسیوں اور اقدامات سے عاجز آئے افراد نے اپنے ہفتے وار مظاہروں کو جاری رکھتے ہوئے ہفتے کے روز بھی تل ابیت سمیت مقبوضہ فلسطین کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے۔

گز‍شتہ چوبیس ہفتوں سے جاری مظاہروں کے شرکا نتن یاہو کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ایک ایسے وقت جاری ہے کہ صیہونی حکومت کے وزیر جنگ "بنی گنتز” نے قبل از وقت عام انتخابات کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

مبصرین کے نزدیک قبل از وقت انتخابات سے متعلق صیہونی وزیرجنگ کا بیان نتن یاہو کی کابینہ کے اندر اختلافات کی غمازی کرتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں