سعودی عرب میں قید فلسطینیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے

سعودی عرب میں قید فلسطینیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے

رام اللہ (پاک صحافت)  سعودی عرب میں سیاسی بنیادوں پر گرفتار فلسطینیوں اور اردنی شہریوں کے اہل خانہ اور دیگر اقارب نے اپنے پیاروں کے بارے میں سخت تشویش اور پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں قید ان کے اقارب کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے اور انہوں نے ایک بار پھر سعودی حکومت سے گرفتار فلسطینیوں اور اردنی باشندوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں قید فلسطینیوں اور اردنی شہریوں کے اہل خانہ پر مشتمل کمیٹی نے اپنی پیاروں کی قید اور انہیں درپیش غیرانسانی حالات پر پریشانی کا اظہار کیا ہے۔

اسیران کی اہل خانہ پر مشتمل کمیٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں قید کیے گئے سینکڑوں افراد کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ سعودی حکومت نے گذشتہ سال مارچ میں قیدیوں کے ساتھ ملاقاتوں پرپابندی عاید کری دی تھی اور اس کے بعد قیدیوں کے ساتھ ملاقات نہیں ہوسکی ہے۔

سعودی عرب میں گرفتار ایک فلسطینی کے بھائی نے بتایا کہ ان کے والد کورونا کی وجہ سے انتقال کرگئے ہیں، وفات سے قبل والد نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب میں گرفتار اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتے ہیں۔

گرفتار فلسطینی نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر فلسطینی اخبار کو بتایا کہ ان کے خاندان کو ایک سال سے ان کے اسیر عزیز کا کوئی علم نہیں کہ وہ کس حال میں‌ ہے۔

فلسطینی شہری کا کہنا تھا کہ ہمیں گرفتار افراد کی صحت اور زندگی کے حوالے سے گہری تشویش ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ دوران حراست ان کی زندگی کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔

درایں اثنا سعودی عرب میں گرفتار فلسطینیوں کے اہل خانہ پر مشتمل کمیٹی کے چیئرمین خضر المشایخ نے ایک بار پھر سعودی حکومت سے زیر حراست فلسطینیوں اور اردنی باشندوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے اردنی اور فلسطینی حکام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سعویہ کی جیلوں میں قید فلسطینیوں اور اردنی شہریوں کی فوری رہائی کے لیے اقدامات کریں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں