مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی، 21 جنوری کو سرینگر شہر میں ہڑتال کا اعلان کردیا گیا

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی، 21 جنوری کو سرینگر شہر میں ہڑتال کا اعلان کردیا گیا

سرینگر (پاک صحافت)  مقبوضہ کشمیر میں پوسٹرز چسپاں کئے گئے ہیں جن میں 21 جنوری کو گائو کدل قتل عام کی 31 ویں برسی کے موقع پر سرینگر شہر میں ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 21 جنوری 1990ء کو سرینگر کے علاقے گائو کدل میں بھارتی فوجیوں نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرکے 50 سے زیادہ بے گناہ شہریوں کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کردیا تھا۔

مظاہرین بھارتی فوجیوں کی طرف سے علاقے میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف احتجاج کررہے تھے، پوسٹروں میں متاثرین کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے شہدا کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیاگیا ہے۔

جموں و کشمیر پیپلز پولیٹکل پارٹی کے چیئرمین انجینئر ہلال احمد وار اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر سرفراز احمد خان نے بھی اس روز ہڑتال کی کال دی ہے۔

انجینئر ہلال احمد وار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ تنازعہ کشمیرپیدا ہونے کے بعد یہ بھارتی فورسزکے ہاتھوں کشمیر میں پہلا بڑا قتل عام تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ قتل عام بھارتی وزارت داخلہ کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کا مقصد کشمیری پنڈتوں کی کشمیر سے نقل مکانی کے لئے راہ ہموار کرنا تھا، ہلال احمد وار نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ گاؤ کدل قتل عام کی تحقیقات کے لئے ایک آزادبین الاقوامی ٹریبونل قائم کریں۔

ڈاکٹر سرفراز احمد خان نے کہا کہ گاؤ کدل، ہندوارہ اور کپواڑہ کے قتل عام کشمیری عوام کو بھارتی مظالم کی یاد دلاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کاحل نہ ہونا خطے میں قیام امن اور سیاسی استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس لئے اقوام متحدہ کو اس تنازعے کے پرامن حل کے لئے اقدامات کرنے چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری آزادی کے مقدس مقصد کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں، انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کاتناسب تبدیل کرنے کے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا کہ جبری فوجی قبضے کے بعد اس طرح کے قتل عام نام نہاد جمہوریت کی آڑ میں ظلم وبربریت کی علامت ہیں، انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام آزادی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے مقروض تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں