اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عوض میں امریکا نے سوڈان کو بلیک لیسٹ سے ہٹا دیا

اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عوض میں امریکا نے سوڈان کو بلیک لیسٹ سے ہٹا دیا

سوڈان کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے عزم کے دو ماہ بعد امریکا نے دہشت گردی کی مالی معاونت کی بلیک لسٹ سے عرب ملک کو ہٹا دیا اور تعلقات میں بنیادی تبدیلی کا اعلان کردیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اس اقدام سے ملک کی امداد، قرضوں سے نجات اور سرمایہ کاری کا راستہ کھل گیا ہے جو سیاسی منتقلی اور کووڈ 19 کی وبائی بیماری کی وجہ سے شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کے لیے واشنگٹن کی جانب سے سوڈان کو پہلی بار بلیک لسٹ میں ڈالنے کے 27 سال بعد اسے فہرست سے نکال رہا ہے۔

خرطوم میں امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ اس اقدام کو باضابطہ شکل دے دی گئی ہے اور سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ سوڈان کو دہشت گردی کی ریاستی کفالت کے عہدے سے باضابطہ طور پر دستبردار کردیا گیا ہے۔

مائیک پومپیو نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سوڈان کے تاریخی جمہوری منتقلی کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون اور حمایت کی طرف ہمارے باہمی تعلقات میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔

سوڈان کے آرمی چیف جنرل عبدالفتح البرہان، جو ملک کی اعلیٰ ترین انتظامی اتھارٹی، خودمختار کونسل کے سربراہ کا عہدہ بھی رکھتے ہیں، نے سوڈانی عوام کو مبارکباد پیش کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے 2018 میں آمر عمر البشیر کے خلاف احتجاج کے سامنے آنے کے دن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کام تھا جو دسمبر کے انقلاب کی روح کے تحت انجام پایا ہے، عمر البشیر کو اپریل 2019 میں فوج نے ان کے 30 سالہ حکمرانی کے بعد عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم آزادی، امن اور انصاف کے لیے سوڈانی عوام کے مطالبات کو سراہتے ہیں اور ہم شہریوں کی زیرقیادت عبوری حکومت کے ممبران کو ان کی عوام کے مطالبات پر ہمت کا مظاہرہ کرنے پر مبارکباد دیتے ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے کہا کہ انہوں نے سوڈان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں اس کے قرضوں کو ختم کرنے اور 2021 میں قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے سوڈان کی کوششوں کو آگے بڑھایا جاسکے۔

یورپی یونین نے اہم سنگ میل کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ملک کی معاشی بحالی کے لیے مثبت رفتار فراہم کرے گا اور اس سے ملک قرضوں سے نجات کے قریب پہنچ جائے گا جس کی یورپی یونین حمایت کرتا ہے۔

سوڈان کے وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک نے بھی فیس بک پر ایک پوسٹ میں واشنگٹن کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارا پیارا ملک عمر البشیر کے رویے سے گھرے عالمی محاصرے سے آزاد ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد اکتوبر میں سوڈان، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عزم کا اظہار کرنے والا تیسرا عرب ملک تھا، تاہم متحدہ عرب امارات اور بحرین کے برعکس سوڈان نے ابھی تک اسرائیل کے ساتھ باضابطہ معاہدے پر اتفاق نہیں کیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں