اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے والے ممالک اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں: حماس

اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے والے ممالک اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں: حماس

اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے والے ممالک کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی چاہیئے، حماس حماس سیاسی اور مزاحمتی میدان میں ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق حماس کے 33 ویں یوم تاسیس کے موقع پر جاری تفصیلی پیغام میں ‌کہا کہ حماس حقیقی معنوں‌ میں فلسطینی قوتوں کے درمیان مصالحت کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ایک مضبوط اور حقیقی سیاسی، قومی اور مزاحمتی میدان میں شراکت کو یقینی بنایا جاسکے۔

اسماعیل ہنیہ کا مزید کہنا تھا کہ حماس نے قومی مصالحت کے لیے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں، سیاسی شراکت کے ساتھ ساتھ تنظیم آزادی فلسطین کے تمام اداروں کو ازسر نو تشکیل دینے اور مزاحمت کے میدان میں ایک ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سال 2020ء بڑی بڑی تبدیلیوں کا سال ہے اور رواں سال رونما ہونے والی علاقائی اور عالمی تبدیلیوں نے قضیہ فلسطین پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی میں‌ تعمیر اور طاقت کے حصول کی تزویراتی حکمت عملی پرعمل جاری رکھیں گے، ان کا کہنا تھا کہ حماس قوم کے تمام نمائندہ گروپوں اور طاقتوں کے ساتھ مزاحمت کی بیداری اور غرب اردن میں اس کی روح کو زندہ کرنے کے لیے کوششیں ‌جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ حماس نے وطن کی آزادی کی طویل جدو جہد کی ہے، حماس کا عسکری ونگ عزالدین القسام شہید کے نقش قدم پر کام جاری رکھے گا۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ملکوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہنیہ نے کہا کہ ہم خطے میں ہونے والی ہر تبدیلی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، فلسطینی قوم کا کوئی ایک طبقہ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

انہوں ‌نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والے عرب ملکوں پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاملے کو مسترد کردیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں