بی جے پی اور آر ایس ایس مقبوضہ کشمیر میں مزید خونریزی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں: رپورٹ

بی جے پی اور آر ایس ایس مقبوضہ کشمیر میں مزید خونریزی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں: رپورٹ

سرینگر (پاک صحافت) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس اوردیگر حریت تنظیموں نے 1990کے سانحہ گائوکدل کے شہداءکی 31ویں برسی کے موقع پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جمعرات کو سرینگر میں مکمل ہڑتال کی اپیل کااعادہ کیا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاہے کہ گائوکدل اور کشمیریوں کے قتل عام کے دیگر سانحات انگریز سامراج کی طرف سے بدنام زمانہ جلیاں والا باغ کے قتل عام کی یاد دلاتے ہیں۔

سینئر حریت رہنماءغلام محمد خان سوپوری ، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی ، جموںوکشمیر نیشنل فرنٹ ، جموںوکشمیر پیپلز لیگ اورجموںوکشمیر پیپلز ایسوسی ایشن نے اپنے بیانات میں سانحہ گائوکدل کو جموںوکشمیر پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قراردیا ہے۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں مل سکا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ 1990 کی دہائی کے پہلے آٹھ برس کے دوران جنوری کے مہینے میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کے پانچ بڑے واقعات کی تلخ یادیں کشمیریوں کے ذہنوں میں اب بھی تازہ ہیں۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جنوری 1990سے اب تک بھارتی فورسز نے قتل عام کے تقریبا 30بڑے واقعات کے دوران 634 کشمیریوں کو شہید اور اربوں روپے مالیت کی املاک کو تباہ کیا، اس کے علاوہ بھارتی فوجیوں اور ہندو انتہا پسندوں نے نومبر1947میں جموں میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیاتھا۔

رپورٹ میں بی جے پی کے رہنماوں اور مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے وزرا کے اشتعال انگیز بیانات اورانسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں خصوصا جینو سائیڈ واچ کی طرف سے جاری انتباہ کا حوالہ دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیاگیا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ مقبوضہ علاقے میں مزید خونریزی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

ادھر سرینگر میں ایک جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے ایک نوجوان اطہر وانی کے اہلخانہ کی اپیل پر احتجاجی مظاہرے کو روکنے کیلئے ضلع پلوامہ کے علاقے بیلو میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا تھا، بکتر بند گاڑیوں کو کھڑا کر کے علاقے کو جانے والی تمام سڑکوں کو بند کردیا  گیاتھا ، تاہم اہلخانہ نے شہید نوجوان کے والد مشتاق وانی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں