پلوامہ حملہ اور بھارتی حکومت کا بے نقاب ہوتا چہرہ

پلوامہ حملہ اور بھارتی حکومت کا بے نقاب ہوتا چہرہ

(پاک صحافت)  پلوامہ حملے پر پاکستانی مؤقف سچ ثابت ہونے پر بھارت کا جو اصل چہرہ اقوامِ عالم پر بے نقاب ہوا ہے اور بالا کوٹ حملے کی جو حقیقت سامنے آئی ہے اُس سے اِسے ایک بار پھر دنیا میں ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا ہے۔

یہ صورتحال سفارتی محاذ پر پاکستانی موقف کو مضبوط تر کرنے میں مدد دے گی بشرطیکہ اِس سے فائدہ اٹھانے کیلئے مستعدی اور فراست سے کام لیا جائے۔ بیچ چوراہے یہ ہانڈی اُس وقت پھوٹی جب بھارتی اینکر ارنب گوسوامی اور براڈ کاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل کے سربراہ پراتھو داس گپتا کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ چیٹ لیک ہوکر دنیا پر آشکار ہو گئی۔

اِن دو شخصیات کی گفتگو میں اِس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ بھارت نے پلوامہ میں خود اپنے 40 فوجیوں کو ہلاک کروایا تاکہ اِس کا الزام پاکستان پر تھوپ کر وزیراعظم مودی مگر مچھ کے آنسو بہانے کا جواز پیدا کر سکیں جبکہ پاکستان نے پہلے ہی دن پلوامہ حملے کو سازش قرار دیدیا تھا۔

متذکرہ چیٹنگ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ارنب گوسوامی نہ صرف بالاکوٹ پر حملے بلکہ آرٹیکل 370کے خاتمے کے حوالے سے پیشگی آگاہ تھا، اِس کے بعد سے اب تک وہ متعلقہ ایجنسی بی اے آر سی کے سربراہ کے ساتھ اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے پر کام کرتا رہا، 26فروری 2019کو اُسے اِس بات کی اطلاع تھی کہ بھارت پاکستان کے خلاف معمول سے بڑی

کارروائی کرنے والا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کے معاونِ خصوصی معید یوسف نے اِس ساری صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے بجا طور پر کہا ہے کہ ہمیں بھارتی چوریوں پر حیران نہیں ہونا چاہئے، وہ 20سال سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا ڈھونگ رچا تا چلا آ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو بلیک میل کرنے کیلئے بھارت بڑے ممالک سے جھوٹ بول کر ہتھیار خریدتا ہے لیکن پلوامہ کے حوالے سے دنیا پر اِس کا اصل چہرہ آشکار ہوا ہے جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہئے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں