سینیٹ انتخابات، الیکشن کمیشن، خرید و فروش اور عمران خان

سینیٹ انتخابات، الیکشن کمیشن، خرید و فروش اور عمران خان

(پاک صحافت)  سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس میں دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا افسوس ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میثاقِ جمہوریت سے پھر گئی ہیں، دونوں جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت میں انتخابات میں خفیہ طریقہ کار کو ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا، جس کی دستاویز اب بھی موجود ہے لیکن اس پر دستخط کرنے والی پارٹیاں اب اس پر عمل نہیں کررہی ہیں، یہ خفیہ ووٹ جرم کی حوصلہ افزائی ہے۔

چیف جسٹس نے غلط نہیں کہا تھا 3 مارچ کو سینٹ کے انتخاب میں پاکستان کی عوام نے دیکھ لیا ضمیر فروشوں کی منڈی میں ضمیر کے خرید اروں نے وہ کچھ کیا جس کی ان سے امید تھی، ضمیر فروشوں نے نہ صرف اپنی قیادت بلکہ اپنے حلقہ انتخاب کے پاکستان دوست ووٹروں کے اعتماد کو بھی دھوکہ دیا۔

پاکستان کی عوام کو یاد ہوگا کہ مسلم لیگ ن کی حکمرانی میں بلاول بھٹو نے عملی طور ہر سیاست میں قدم رکھتے ہوئے ایک تایخی جملہ کہا تھا، جمہوریت بہترین انتقام ہے اور وہ انتقام زرداری نے مسلم لیگ ن سے لے لیا، سینٹ کے 37 نشستوں پر انتخاب میں مسلم لیگ کا کوئی امیدوار تو تھا نہیں اسلام آباد کی جنرل نشست پر واحد خاتون امیدوار فرزانہ کوثر تحریک انصاف کی امیدوار فوزیہ ارشد کے مقابلے میں 13 ووٹوں سے ہار گئیں، فرزانہ کوثر کو فوزیہ ارشد کو 174 کے مقابلے میں ووٹ ملے اس لئے کہ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی گیلانی نے ضمیر فروشوں کو ووٹ ڈالنے یا ضائع کرنے کے لئے اگر خریدا تھا ت یوسف رضاگیلانی کے لئے خریدا تھا۔

سینٹ کے انتخاب میں پاکستان کے محب وطن عوام جان گئے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کی جنگ میںجھوٹ جیت گیا اور سچائی ہار گئی، جمہور یت کے نام نہاد علمبرداروں نے جمہوریت کا مذاق اڑایا۔

جہاں تک تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ کی ناراضی کا تعلق ہے تو اگر وہ واقعی ناراض تھت تو انہوں نے جنرل نشست پر تحریک انصاف کی خاتوں امیوار کو ووٹ کیوں دیا، یہ زرداری کی گیم تھی مسلم لیگ ن کا سینٹ میں پتہ صاف کرنے کے لئے اس لئے اس نے ایک تیر سے دو شکار کئے اور تحریک ِ انصاف کو وہ ہی پتے ہوا دے گئے جن پہ تکیہ تھا۔

سینٹ الیکشن میں جو بھی ہوا اس کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان نے ضمیر فروشوں کو بے نقاب کر دیا، لیکن وہ دل شکستہ نہیں ہوئے وہ جانتے ہیں کہ آب حیات اندھروں میں پوشیدہ ہے، خدائے مہربان کی عنایات پوشیدہ ہوتی ہیں دنوں کے ہیر پھیر میں صبر کا دامن تھام کے رکھے ہوئے ہے صبر کڑوا ہوتا ہے لیکن اس کا پھل بڑا میٹھا ہوتا ہے، وہ جانتے ہیں کہ بھلے دنوں میں جھک جھک کر سلام کرنے والے گردش ایام میں ساتھ چھوڑ جاتے ہیں یہ امتحان کی گھڑی ہے اگر خدا اور پاکستان کے عوام اس کے ساتھ ہیں تو وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ شاخ ِ گل میں پھول آنے سے پہلے خار آتے ہیں!

سینٹ کی 37 نشستوں میں 18 نشستوں پر کامیابی کے بعد تحریک انصاف 23 نشستوں کے سا تھ سینٹ کی بڑی جماعت بن گئی ہے حکومتی اتحاد کی سینٹ میں 38 نشستیں ہو گئی ہیں عمران خان کے امیدوار کو جنرل نشست پر اس کے امیدوار کو ہروایا گیا لیکن اس کا خود پر اعتماد برقرار ہے، اس لئے سینٹ انتخاب کے نتائج کے بعد انہوں کے اعلان کیا کہ اپوزیشن تحریک عدام اعتماد لانے کی زحمت نہ کرے، میں جانتا ہوں کہ میں وزیر  اعظم تب ہوں جب مجھے پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل ہے، میں پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لوں گا اور انہوں نے ووٹ لے کر ثابت کردیا کہ پارلیمنٹ کو ان پر مکمل اعتماد ہے۔

اس سے ظاہر ہے کہ عمران خان جھوٹ کے مقابلے میں اپنی سچائی پر ڈٹے ہوئے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ میں کسی بھی صورت میں چوروں کا ساتھ نہیں دوں گا چاہے میری حکومت ہی کیوں نہ چلی جائے عمران خان کے اس فیصلے نے ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان کے حق میں ایک ایماندار اور سچے لیڈر ہیں لہٰذا پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیئے سب کو ان کا ساتھ دینا چاہیئے۔

یہ بھی پڑھیں

تکڑی

مشرق وسطیٰ میں بائیڈن کے بڑے جوئے کی “فارن پالسی” داستان

پاک صحافت امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے انتخابی چیلنجوں اور افغانستان، یوکرین اور مشرق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے