بشار اسد نے بتا دیا کہ شام کی اصل جنگ کس کے ساتھ ہے؟

بشار

دمشق {پاک صحافت} شام کے صدر نے کہا ہے کہ مغرب اپنے مفادات کی بنیاد پر دنیا کے تمام ممالک کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کی اصل جنگ مغربی دنیا کی طاقت کی خواہش کے خلاف ہے۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق شام کے صدر بشار اسد نے روس کی خود ساختہ جمہوریہ ڈونیٹسک اور لوہانسک کے مشترکہ وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ مغربی طاقتوں سے مقابلے کے لیے آزاد ریاستوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنا ہوں گے۔ بشار اسد نے کہا کہ ہمارے تعلقات ایسے ہونے چاہئیں جس میں سب کے قومی مفادات کا مکمل خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک اپنے مفادات کے لیے دوسروں کی قربانی دیتے ہیں۔ شامی صدر نے دونسک اور لوہانسک کی خود ساختہ جمہوریہ کے ساتھ دمشق کے تعلقات کو وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی دونسک اور لوہانسک کی خود ساختہ جمہوریہوں کو تسلیم کرنے کا باقاعدہ عمل شروع کرنے کے لیے ہدایات جاری کریں گے۔

بشار اور پوتن
روس اور ڈونسک اور لوہانسک کی خود ساختہ جمہوریہ کے مشترکہ وفد نے یوکرین میں روس کی طرف سے شروع کیے گئے خصوصی فوجی آپریشن کو بھی بیان کیا۔ اسی طرح دمشق کا دورہ کرنے والے مشترکہ وفد نے بھی شام کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے پر زور دیا۔ ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ روس کی سرحد کے قریب مغربی ممالک کی طرف سے امریکہ کی ملی بھگت سے کچھ سالوں سے کی جا رہی اشتعال انگیز کارروائیوں کے جواب میں 24 فروری 2022 کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خود ساختہ جمہوریہ کے رہنماؤں کی طرف سے مشرقی یوکرین، ڈونیٹسک اور لوہانسک۔فوجی مدد کی درخواست پر ڈونباس کے علاقے میں خصوصی فوجی آپریشن کا حکم دیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں