دوپہر میں نیند کیوں آتی ہے؟

نیند

نیو یارک  (پاک صحافت) رات بھر نیند کرنے کے باوجود دوپہر کے وقت نیند کیوں آتی ہے؟  ماہرین نے اس کی بڑی وجہ جان لی ہے،  غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اکثر افراد دن کی تحرک بھری سرگرموکں کے باوجود دوپہر   کے وقت  آرام کرنا پسند کرتے ہیں ، باوجود  اس کے کہ وہ رات بھر سوکر اٹھے ہوں، سائنسدانوں کے مطابق قیلولہ کرنا ایسے افراد کی جنزم اور رویوں  میں  شامل ہوتا ہے، جس کا انکشاف امریکا  میں  ہونے والی نئی تحقیق میں ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سائنسدانوں نے رات کی نیند اور صبح کی متحرک سرگرمیوں کے باوجود دوپہر کو سست طبیعت اور غنودگی کے باعث قیلولہ کرنے کی وجوہات جان لیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 5 لاکھ افراد کے جینومز کا تجزیہ کرنے پر دریافت کیا گیا کہ دوپہر کی نیند کی وجہ حیاتیاتی ہے۔ ماہرین نے جینومز کے 123 حصوں پر تجربہ کیا اور اس بھی تین ایسے میکنزمز کو دریافت کیا، جو قیلولہ کا باعث بنتے ہیں۔

واضح رہے کہ سائنسدانوں نے دوسرے میکنزمز کو ڈس رپٹڈ سلیپ اور ارلی مارننگ اویکیننگ کا نام دیا ہے۔ جو ایسے افراد میں نظر آتا ہے جو رات کو پرسکون نیند نہ لے سکیں ہوں جبکہ تیسرے میکنزم کو سلیپ پروپینسیٹی کہتے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ کس شخص کو کتنی نیند کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب آسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسان دن میں دو مرتنہ نیند لینے بنایا گیا ہے، اسی لیے دوپہر میں غنودگی و سستی فطری عمل ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں