ایران اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 30 نئے جوہری پلانٹ تعمیر کرے گا

جوہری پلانٹس

پاک صحافت ایران نے ویانا میں ہونے والے جوہری مذاکرات کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ وہ چند ہفتوں میں نئے جوہری پلانٹس کی تعمیر کا عمل شروع کرنے جا رہا ہے، جس کے تحت کل 30 جوہری پلانٹ تعمیر کیے جائیں گے۔

ایران 2040 تک 30 نئے جوہری پلانٹس کی تعمیر مکمل کر لے گا۔

ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا کہ ہم ایٹمی توانائی سے 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ایٹمی توانائی کی پیداوار میں اضافہ ایران کی ایٹمی حکمت عملی کا بنیادی نکتہ ہے۔

ملک میں جیسے جیسے ترقی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، توانائی کی ضرورت اور استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ضروری ہو گیا ہے۔

ایران نے سال 2013 میں پہلی بار جوہری توانائی پیدا کی تھی جس کے بعد ایک سال بعد جوہری توانائی کی فراہمی شروع کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے ایٹمی توانائی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ایران بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں تقریباً 1025 میگاواٹ بجلی بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران 2000 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اس طرح 3 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ اسے 10 ہزار میگاواٹ تک پہنچانا ہوگا۔

ایران مختلف مقامات پر مختلف صلاحیتوں کے جوہری پاور اسٹیشن بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایٹمی توانائی کے قومی دن پر صدر سید ابراہیم رئیسی نے اعلان کیا کہ در خواین میں 360 میگاواٹ کا ایٹمی پاور پلانٹ تعمیر کیا جائے گا۔

تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ایران مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جوہری توانائی کے شعبے میں سخت محنت کر رہا ہے اور اس نے قابل تعریف کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں