صہیونی فوجیوں میں خودکشی میں اضافہ؛ 11 افراد نے خودکشی کی

اسرائیلی فوج

تل ابیب {پاک صحافت} اسرائیلی فوج میں ہر سال خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال 2022 کے پہلے چھ ماہ میں اسرائیلی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

رشیا ٹوڈے نیوز چینل نے عبرانی چینل کاہن کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور صرف 2022 کے آغاز سے اب تک 11 صہیونی فوجیوں نے خودکشی کی ہے۔

اسرائیلی فوج کی لیبر فورس کے سربراہ یانیو اشور نے کہا کہ "انہوں نے وزارت صحت کے نفسیاتی شعبے کے اہلکاروں کے ساتھ ایک غیر معمولی میٹنگ کی ہے تاکہ ان وجوہات کی چھان بین کی جا سکے جن کی وجہ سے فوج کی طرف سے خودکشیوں کی تعداد میں اس تشویشناک اضافہ ہوا”۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں کوئی واضح نتیجہ نہیں نکل سکا تاہم آرمی کمانڈرز نے خودکشی کے معاملے پر توجہ بڑھانے کا حکم دیا ہے۔

اسرائیلی خبر رساں ذرائع نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ گزشتہ سال (2021) میں 11 اسرائیلی فوجیوں نے خودکشی کی تھی اور اس سے پچھلے سال 9 فوجیوں نے خودکشی کی تھی۔

اس سے قبل صیہونی حکومت کی دیگر فوجی اور سیکورٹی فورسز میں خودکشیاں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس رجحان سے نمٹنے کے لیے ذمہ دار فریقین کی کوششوں کے باوجود ہر سال 30 اسرائیلی فوجی خودکشی کر لیتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر کے کمانڈروں نے فوجیوں کی خودکشی کو کم کرنے کے لیے فوجیوں کے پاس دستیاب ہتھیاروں میں کمی کے احکامات جاری کیے تھے۔

رپورٹس کے مطابق صیہونی فوج میں 69 فیصد کے ساتھ دوائی لینا خودکشی کا سب سے عام طریقہ ہے، 8 فیصد کے ساتھ کٹائی اور 6 فیصد کے ساتھ پھانسی اس حکومت میں خودکشی کے دیگر طریقے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں