ایران کا امریکہ اور یورپ کے سامنے دو ٹوک موقف، پابندیاں ہٹیں گی تو ہی مذاکرات کامیاب ہوں گے…

علی باقری

تہران {پاک صحافت} ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینئر جوہری مذاکرات کار علی باقری کنی کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے مضبوط ارادے اور مکمل تیاری کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے چین اور روس کے وفود اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے انچارج اور جامع ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے سربراہ اینریک مور سے ملاقات کے بعد کہا کہ اس کا اندازہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کی مذاکراتی ٹیم سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ وہ امریکہ کی غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیوں کو ختم کرنے میں کتنا سنجیدہ ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ویانا میں شروع ہونے والا مذاکرات کا نیا دور ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے میں موثر کردار ادا کرے گا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ویانا میں شروع ہونے والے مذاکرات کے وقت کے بارے میں کہا کہ مذاکرات میں ہماری پہلی ترجیح پابندیوں کا خاتمہ ہے، اس لیے وقت کے مطابق مذاکرات کے لیے کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ پیر کو ہونے والے مذاکرات میں ویانا مذاکرات کے روڈ میپ پر غور کیا جائے گا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ مذاکرات کی ٹائم لائن کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔

خیال رہے کہ ایران نے واضح کیا ہے کہ ان مذاکرات کا بنیادی ہدف ایران کے خلاف تمام غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیوں کو ختم کرنا ہے۔ ایران کے سینئر جوہری مذاکرات کار علی باقری کنی نے سامنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر سے تمام پابندیاں نہ ہٹائی گئیں تو یہ مذاکرات بھی ناکام ہو جائیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں