سعودی عرب، بحرین اور عرب ممالک سچ کی تلخی سے حیران لبنان سے سفیروں کو واپس بلانے کی تیاری

جارج قرداہی

بیروت {پاک صحافت} سعودی عرب اور بحرین سمیت عرب ممالک لبنان کے وزیراطلاعات جارج قرداہی کے ایک بیان پر اتنے دنگ رہ گئے کہ انہوں نے اپنے سفیروں کو واپس بلانا شروع کر دیا اور لبنانی سفیروں کو برطرف کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

سعودی عرب نے بیروت سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور لبنانی سفیر کو ریاض چھوڑنے کا حکم دیا۔

لبنان کے وزیر اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا کہ حزب اللہ نے اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کا دفاع کیا اور یمن میں انصار اللہ تحریک اور عوام سعودی عرب کے حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، انہوں نے سعودی عرب پر حملہ نہیں کیا۔

سعودی عرب نے اس بیان پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بیروت سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور ساتھ ہی لبنان سے سعودی عرب کو تمام برآمدات پر پابندی لگا دی۔

سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال لبنانی انتظامیہ کی جانب سے اصلاحاتی عمل پر عدم توجہی کے باعث پیدا ہوئی ہے۔

ادھر بحرین نے لبنانی سفیر کو بھی کہا ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر اندر بحرین چھوڑ دیں جسے خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کی طرف سے مکمل طور پر محدود سمجھا جاتا ہے۔

لبنان کے ایم ٹی وی نے خلیج فارس تعاون کونسل کے قریبی ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چند گھنٹوں کے اندر کونسل کے تمام رکن ممالک سے لبنانی سفیروں کی برطرفی کا اعلان ہونے والا ہے۔

تاہم سعودی عرب کئی سالوں سے لبنان پر مختلف طرز کی پالیسی اپنانے پر تنقید کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب دراصل لبنان کے سیاسی اور اقتصادی شعبے کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے جسے لبنانی حکومت قبول کرنے کو تیار نہیں۔

لبنانی وزیراعظم نجیب میقاتی نے سعودی حکام کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی ہمیشہ بیروت کی ترجیح ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں