کیا چینیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے جو گزشتہ تین سالوں سے کووِڈ کے سخت قوانین کا سامنا کر رہے ہیں؟

چینی

پاک صحافت چین میں گزشتہ تین سالوں میں لاک ڈاؤن اور سخت کووِڈ قوانین کے سائے میں رہنے والے شہری صبر کھو رہے ہیں اور کئی شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس چین سے پھیلا، جس نے بعد میں عالمی وبا کی شکل اختیار کر لی۔ تاہم، اب اسے پوری دنیا میں کنٹرول میں لایا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اکثر ممالک نے کووِڈ قوانین کو یا تو اٹھا لیا ہے یا بڑے پیمانے پر نرمی کر دی ہے۔

لیکن چین شروع سے ہی اس وائرس کو بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے اور آج بھی کئی شہروں میں سخت قوانین بنائے ہوئے ہیں۔

اب کئی شہروں میں ہزاروں لوگ کووِڈ پابندیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں، لوگ اب پوچھ رہے ہیں کہ شی جن پنگ کی زیرو کووِڈ پالیسی کو کب تک برداشت کرنا پڑے گا۔

لوگ احتجاج میں حکومت اور خاص طور پر صدر شی جن پنگ کے خلاف اپنا غصہ نکال رہے ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چین میں تازہ ترین پرتشدد مظاہروں کا آغاز مغربی شہر ارومچی میں ایک عمارت میں آگ لگنے سے ہوا جس میں کم از کم 10 افراد زخمی ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیو فوٹیجز جاری کی گئیں جن میں لوگوں کو آگ سے بچنے کی التجا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی جانیں بچانے کے لیے عمارت سے باہر آئیں، کیونکہ سخت لاک ڈاؤن کے باعث لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں