طالبان نے اپنے ہی کمانڈر کو قتل کرنے کی سازش رچی، کمانڈر فرار، طالبان کی تلاش جاری

طالبان

کابل {پاک صحافت} طالبان کے اندر اندرونی لڑائی شروع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اس گروپ میں نسلی تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

افغانستان سے باخبر ذرائع۔ بتایا گیا ہے کہ طالبان نے اپنے ایک کمانڈر کو ہلاک کرنے کی سازش رچی ہے جس کا تعلق افغانستان کی ہزارہ نسل سے ہے۔

طالبان کمانڈر مولوی مہدی مجاہد نے کہا ہے کہ طالبان کی طرف سے افغانستان کی ہزارہ ذات کی حمایت کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے طالبان کی اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ مسلمانوں کی ہزارہ برادری کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

دریں اثنا، بتایا گیا ہے کہ پیر کو طالبان کے وفد کی جانب سے عالم دین مہدی مجاہد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ دوسری جانب منگل کو افغانستان کے باخبر ذرائع نے بتایا کہ طالبان نے اپنے ہزارہ کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کو قتل کرنے کے لیے کچھ لوگ بھیجے ہیں۔

طالبان کے ہزارہ کمانڈر مولوی مجاہد کے قریبی ذرائع کے مطابق مولوی مہدی مجاہد طالبان کے ارادوں سے آگاہ ہونے کے بعد کابل چھوڑ کر بلخاب چلے گئے۔ طالبان کا یہ ہزارہ کمانڈر اس وقت گرفتاری یا مارے جانے کے خطرے میں ہے۔

طالبان کے اندر گہرے نسلی اختلافات کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ دو روز قبل طالبان کے ازبک کمانڈر قاری احسان اللہ طوفان اور پشتو کمانڈر ملا منصور جاوید کے درمیان جھڑپ میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ پشتو کمانڈر ملا منصور جاوید ازبک کمانڈر قاری احسان اللہ کو اسلحہ چھین کر گرفتار کرنا چاہتے تھے۔ دریں اثناء طالبان کے ایک اور کمانڈر قاری صلاح الدین ایوبی نے قاری احسان اللہ طوفان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ افغانستان کا معاشرہ کم از کم 14 ذاتوں پر مشتمل ہے۔ ان ذاتوں کے درمیان اختلافات بعض اوقات سنگین تصادم کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ یہ مسئلہ افغانستان میں حکمران جماعت کے لیے ہمیشہ درد سر بنا ہوا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں