روس نے یورپی یونین کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کر دیا

روس

پاک صحافت اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے دمتری پولیانسکی نے جمعرات کو کہا کہ ماسکو نے یوکرین کی یورپی یونین میں رکنیت کے بارے میں اپنا موقف تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی یورپی یونین میں رکنیت کو فی الوقت کسی امن معاہدے کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

اب تک اس حوالے سے روس کا موقف رہا ہے کہ اسے یوکرین کی یورپی یونین میں رکنیت کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں۔ لیکن یوکرین کی جنگ کے دوران روس کے خلاف یورپی یونین کے معاندانہ رویے کی وجہ سے ماسکو کا یہ رویہ بدل گیا ہے۔ پولنسکی کا کہنا تھا کہ اب تک ہمیں یورپی یونین کے بارے میں کوئی خاص تشویش نہیں تھی لیکن جوزف بوریل کے اس اعلان کے بعد کہ ہمیں یہ جنگ ضرور جیتنی چاہیے، صورتحال بدل گئی ہے اور یورپ یوکرین کو مسلح کرنے کی ذمہ داری لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اب یورپی یونین کے بارے میں بھی ہمارا موقف وہی ہوگا جو نیٹو کے بارے میں ہے۔ کیونکہ دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے مارچ کے اوائل میں کہا تھا کہ موجودہ جنگ کا فیصلہ اب صرف میدانوں کی لڑائی میں کیا جائے گا۔ انہوں نے روس کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کا مرکز روس کا توانائی کا شعبہ ہونا چاہیے۔

قبل ازیں روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے کہا تھا کہ اگر ہمسایہ ممالک سویڈن اور فن لینڈ نیٹو میں شامل ہو جائیں تو روس کو بحیرہ بالٹک میں اپنی فوج، بحریہ اور فضائیہ کو مزید مضبوط کرنا ہو گا۔ میدویدیف نے خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں سے پاک بحیرہ بالٹک پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ یہ ہے روس کا کالینن گراڈ علاقہ جو پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان ہے۔

اس خطے کو یورپ کا دل بھی کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں جوہری ہتھیاروں اور ہائپرسونک میزائلوں کو یہاں رکھنا یورپ کے لیے اسٹریٹجک مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔

دریں اثنا، فن لینڈ نے روس کے انتباہات کو نظرانداز کرتے ہوئے نیٹو میں شمولیت کے لیے درخواست دی ہے۔ فن لینڈ کا خیال ہے کہ نیٹو کی رکنیت فن لینڈ کو آرٹیکل پانچ کے تحفظ کی ضمانت دے گی، جو کسی بھی رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کرتا ہے۔

مغربی ممالک کا خیال ہے کہ یوکرین کی جنگ نے انہیں اور امریکہ کو روس سے براہ راست محاذ آرائی کے بجائے یوکرین میں روس کے خلاف پراکسی وار لڑنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس سے روس کمزور ہو سکتا ہے اور اپنا مقصد حاصل کر سکتا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن سویڈن اور فن لینڈ پر زور دے رہا ہے کہ نیٹو کی رکنیت دی جائے اور یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی میں اضافے کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ روس کا مکمل محاصرہ کیا جا سکے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں